14 ستمبر 2010 - 19:30

امریکہ کی کلراڈو یونیورسٹی کےپروفیسر آیرا چرنس نے ایران کےخلاف اوبامہ حکومت کی دھمکی آمیز زبان کو ایک غلطی اور لاحاصل قرار دیا ہے۔

امریکی یونیورسٹی کے تاریخ ادیان کے پروفیسر نے نیویارک میں ارنا کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دھمکی کی زبان فریقین کے درمیان دوری اوراختلاف میں اضافہ کرتی ہے اور اس سے دشمنی میں مزید شدت پیداہوتی ہے۔تباہی کا ہیولا نامی کتاب کے مصنف آیرا چرنس (Ira Chernus) جس نے اپنی اس کتاب میں بش حکومت کی جنگ پسندانہ پالیسیوں پر تنقید کی ہے کہا کہ جب کوئی گفتگو میں دھمکی کی زبان استعمال کرتا ہے تو فطری طور پر منفی ردعمل سامنے آتا ہے  اور واضح ہے کہ دھمکی آمیز لہجہ امریکہ کے حق میں منتج نہيں ہوگا۔اس امریکی پروفیسر نے تاکید کے ساتھ کہا کہ دنیاکے علاقوں پر تسلط اور کنٹرول امریکہ میں ایک قانون میں تبدیل ہوگیا ہے  جس کے ذریعے وہ دنیا کے دوسرے ملکوں پر اپنی برتری ثابت کرنا چاہتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110